بین الاقوامی
ایران اور امریکہ کشیدگی میں نئی پیش رفت،
جنگ بندی اور مذاکرات پر دنیا کی نظریں
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں — خلیجِ عمان، آبنائے ہرمز اور خطے کے حساس مقامات پر حالیہ جھڑپوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر
ایران کے جواب کا انتظار، امریکہ کو مذاکرات کی امید
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے جواب کا انتظار ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ تہران سنجیدہ مذاکراتی عمل کی طرف بڑھے گا۔
واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، تاہم اگر امریکی مفادات یا افواج کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایک ہفتے میں امن معاہدے کی امید — صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو تہران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور امکان ہے کہ ایک ہفتے کے اندر کسی امن معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ ایک طرف سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف سفارتی حل کی بھی کوشش جاری ہے تاکہ خطے میں بڑے پیمانے کی جنگ سے بچا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست پر "پروجیکٹ فریڈم” روک دیا گیا۔
دونوں ممالک کے الزامات، سینٹ کام کی تصدیق
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ جزیرہ قشم اور بندر عباس کے قریب کارروائیاں کی گئیں۔
آبنائے ہرمز — عالمی معیشت کو خطرہ
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل سپلائی کیا جاتا ہے۔ اگر اس راستے پر کشیدگی بڑھی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل — عراقچی کا بیان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کبھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
ایران اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام نے سی آئی اے کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا جس میں ایران کی میزائل صلاحیت سے متعلق دعوے کیے گئے تھے۔
حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر جنگ بندی کامیاب رہتی ہے اور مذاکرات کا آغاز ہو جاتا ہے تو خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
فی الحال دنیا کی نظریں تہران اور واشنگٹن پر مرکوز ہیں جہاں آئندہ چند دنوں میں ہونے والے فیصلے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔






